تعارف امیر اہلسنت

ابھی ہماری گفتگوجاری تھی کہ دوبارہ موبائل پربیل بجی،اس نے اس مرتبہ فون بند کرنے کے بجائے مجھ سے میرانام اوردکان کاپتامعلوم کیااورفون پرجواب دیاکہ میں تمہاراموبائل اس دکاندارکودے کرجارہا ہوں ،آکرحاصل کرلواورمجھے معاف کردینا،مجھ میں یہ تبدیلی رسالہ ’’میں سدھرناچاہتاہوں ‘‘پڑھ کرآئی ہے اوراسی وجہ سے میں موبائل واپس کررہاہوں۔۔۔۔۔۔۔ پھرمجھے وہ موبائل دے کرلوٹ گیااورمیں امیرِ اہلسنّت مدظلہ العالی کی پرتاثیرتحریرکی برکات سے مستفیض ہونے والے خوش نصیب نوجوان کودیکھ رہاتھا۔

احترامِ مسلم:

          تحصیل ٹانڈا ضلع آمبیڈ کرنگر (یو پی ہند)کے ایک اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح بیان ہے کہ میں کفر کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہا تھا،ایک دن کسی نے امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ  کے تحریری بیان کا رسالہ احترامِ مسلم تحفے میں دیا میں نے پڑھا تو حیرت زدہ رہ گیا کہ جن مسلمانوں کو میں نے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے ان کا مذہب ’’اسلام ‘‘ آپس میں اس قدر امن و آشتی کا پیام دیتا ہے ! رسالے کی تحریر تاثیر کا تیر بن کر میرے جگر میں پیوست ہوگئی اور میرے دل میں اسلام کی محبت کا دریا موجیں مارنے لگا ۔ایک دن میں بس میں سفر کر رہا تھا کہ چند داڑھی اور عمامے والے اسلامی بھائیوں کا قافلہ بھی بس میں سوار ہو ا ،میں دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ


 

 

Index