تعارف امیر اہلسنت

پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں بصورتِ ا شعار اِستِغاثہ پیش کیا، ان میں سے چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔

گھٹائیں غم کی چھائیں ،دل پریشاں یا رسولَ اللہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

تمہیں ہو میرے دَرْد و دُکھ کا دَرماں یا رسولَ اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

میں ننھا تھا، چلا والد، جوانی میں گیا بھائی

بہاریں بھی نہ دیکھیں تھیں چلی ماں یا ر سولَ اللہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

نسیمِ طیبہ سے کہہ دو دلِ مضطرکو جھونکا دے

بنے شامِ اَلَم، صبحِ بہاراں یارسولَ اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

سفینے کے پَرَخْچے اڑچکے ہیں زورِ طوفاں سے

سنبھالو! میں بھی ڈوبا اے مِری جاں یا رسولَ اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

 

کئی روز تک خوشبوآتی رہی:

                   امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ والدۂ مُشفِقَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کا  شبِ جُمُعہ کو انتقا ل ہوا۔الحمد للہ عزوجل کلِمۂ طَیِّبَہ اور اِسْتِغفار پڑھنے کے بعد زبان بند ہوئی ۔ غُسْل دینے کے بعد چہرہ نہایت ہی روشن ہوگیا تھا۔ جس حصۂ زمین پر روح قَبْض ہوئی اس میں کئی روز تک خوشبو آتی رہی اورخُصوصاً رات کے اس حصہ میں جس میں انتقال ہوا تھا، طرح طرح کی خوشبوؤں کی لَپٹَیں آتیں۔ تیجا والے دن صبح کے وقت چند گلاب کے پھول لاکر رکھے تھے جو شام تک تقریباً تروتازہ رہے جومیں نے


 

 

Index