تعارف امیر اہلسنت

اپنے ہاتھ سے والدہ کی قبْر پر چڑھائے۔ یقین جانیں ان میں ایسی عجیب بھینی بھینی خوشبو تھی کہ میں حیران رہ گیا، کبھی میں نے گلاب کے پھولوں میں ایسی خوشبو نہیں سُونگھی تھی نہ ابھی تک سونگھی ہے بلکہ گھنٹوں تک وہ خوشبو میرے ہاتھوں سے بھی آتی رہی۔رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہَا

          آپ دامت برکاتہم العالیہ مزیدارشاد فرماتے ہیں کہ یہ سب پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی غلامی کا صدقہ ہے ، جس پر بھی سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی میٹھی میٹھی اور مَہکی مَہکی نَظَر کرم ہوجاتی ہے ، وہ ظاہر ی و باطنی خوشبوؤں سے مَہکنے لگتا ہے ۔  اور پھر اس کی خوشبو سے ایک عالم مَہک اٹھتا ہے۔

ذرے جھڑ کر تری پَیزاروں کے                                       تاجِ سر بنتے ہیں سیاروں  کے

کیسے آقاؤں کا  بندہ  ہوں رضاؔ                                   بول  بالے مِری سرکاروں  کے

          الحمدللہ عزوجل! امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہکی والدہ ماجدہ رحمۃ اللہ علیہا پر ربّ عزوجل کا کتنا کرم ہے کہ ان کا انتقال کلِمۂ طَیِّبَہ اور اِسْتِغفار پڑھنے کے بعد ہوا ۔ مدینے کے سلطان ، رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  کا فرمان عظمت نشان ہے : ’’جس کا آخِر کلام لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ (یعنی کَلِمَۂ طَیِّبَہ)ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

(سنن ابی داؤد ،کتاب الجنائز ،باب فی التلقین،الحدیث۳۱۱۶،ج۳ص۲۵۵،داراحیاء التراث العربی بیروت)

 

امیرِ اہلِسنّتمدظلہ العالیکا شوقِ علم

          سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ ،صاحب ِ معطّر پسینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطافرمادیتا ہے ۔‘‘

(صحیح بخاری، کتاب العلم، الحدیث ۷۱، ج۱، ص۴۲دارالکتب العلمیۃ بیروت)

         

امیرالمؤمنین مولا مشکل کُشا سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ رسولِ

Index