تعارف امیر اہلسنت

میں سدھرناچاہتاہوں :

          باب المدینہ(کراچی)کے ایک دکانداراسلامی بھائی(جواپنے پاس امیرِاہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسائل تحفے میں دینے کے لیے رکھاکرتے ہیں )نے بتایاکہ میرے پاس ایک نوجوان موبائل فون یہ کہہ کربیچنے کے لیے آیاکہ میں مجبوری کے تحت بیچ رہاہوں۔مگرمجھے شبہ ہواکہ شایدیہ موبائل چراکریاکسی سے چھین کرلایاہے،ورنہ اتناسستانہ بیچتا۔بہرحال میں نے موبائل خریدنے سے انکار کرتے ہوئے اسے امیرِاہلسنتدامت برکاتہم العالیہ کے تحریری بیان کا رسالہ’’میں سدھرناچاہتاہوں ‘‘ تحفے میں پیش کردیا۔کچھ دیربعدجب میں نمازاداکرکے قریب ہی واقع مزارشریف پرحاضری کے لیے پہنچاتواسی نوجوان کومزارکے احاطے میں بیٹھے دیکھا،اس کے ہاتھ میں وہی رسالہ تھا۔میں نے بعدِسلام خیریت دریافت کی تو وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگا:میں نے آپ کے پیش کردہ رسالہ کامطالعہ کیا،اس نے مجھے لرزہ دیاہے،میری اس وقت عجیب حالت ہے،کبھی میں بھی سیدھاسادہ نوجوان تھامگراب بری صحبت کی وجہ سے معاشرے کاانتہائی برافردبن چکاہوں ،لوگوں کولوٹنا، چوریاں کرنا،ڈاکے ڈالنامیری عادت ہے،یہ موبائل فون بھی کسی سے چھیناہے اس بے چارے کاباربارفون آرہاہے کہ کچھ رقم لے لواور میراموبائل واپس کردو، آپ کے دیئے ہوئے رسالے کو پڑھ کراس بُری زندگی کو چھوڑنے کاذہن بناہے۔‘‘


 

 

Index