تعارف امیر اہلسنت

ا یمان کی حفاظت

                  اَلْحَمْدُﷲِ عَزَّوَجَلَّ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کی سب سے قیمتی چیز ایمان ہے۔امامِ اہلسنّت،عظیم البرکت،مجددِ دین وملت  اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن  کا ارشاد ہے،جس کو زندگی میں سلْب ایمان کاخوف نہیں ہوتا، نَزْع کے وقت اُس کا ایمان سلْب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے ( بحوالہ رسالہ برے خاتمے کے اسباب ص ۱۴)  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو: ایمان کی حفاظت کے لئے ہمیں نیک اعمال اختیار کرنے چاہئیں۔  ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہ کسی ’’مرشدِکامل ‘‘ سے مُرید ہونا بھی ہے۔

بَیْعَت کا ثُبوت :

            اللہ عَزَّوَجَلَّ  قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔  

یَوْمَ نَدْعُوْکُلَّ اُنَاسٍم بِاِمَامِھِمْ O (سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ۷۱)

ترجمہ کنزالایمان: جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔

           

نورُ العِرفان فی تفسیرُ القرآن میں مفسرِ شہیر مفتی احمد یا ر خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیتِ مبارَکہ کے تحت لکھتے ہیں ’’ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالیناچاہیئے شَرِیْعَت میں  ’’تقلید‘‘ کرکے ، اور طریقت میں ’’بَیْعَت‘‘کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطٰن ہوگا۔ اس آیت میں تقلید، بَیْعَت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔‘‘

آج کے پرفِتن دور میں پیری مُریدی کا سلسلہ وسیع تر ضَرورہے ، مگر کامل اور ناقص پیر کا امتیاز مشکل ہے۔ یہ اللہ عَزَّوجَلَّ   کاخاص کرم ہے! کہ وہ ہر دور میں اپنے پیارے مَحبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت کی اصلاح کیلئے اپنے اولیاء کرام رَحِمَھُمُ اللہ  ضَرورپیدافرماتا ہے۔ جو اپنی مومنانہ حکمت و فراست کے ذریعے لوگوں میں  اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کا مقدس جذبہ بیدارکرنے کی سعی فرماتے  ہیں۔

           


 

 

Index