تعارف امیر اہلسنت

بچپن ہی میں حقوق العباد کا خیال:

                   ایک مرتبہ دوران ِگفتگو امیرِا ہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے متعلقین کی ترغیب کیلئے ارشاد فرمایا:’’ اللہ و رسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے فضْل و کرم سے حُقوق العِباد کی ادائیگی کا خوف بچپن ہی سے میرے دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ جب میں چھوٹا اور تقریبًا ناسمجھ تھا،یتیمی اور غربت کا دور تھا۔ حُصولِ مُعاش کے لئے بھنے ہوئے چنے اورمونگ پھلیاں چھیلنے کے لئے گھرمیں لائی جاتی تھیں۔ایک سیر چنے چھیلنے پر چار آنے، ایک سیر مونگ پھلیاں چھیلنے پر ایک آنہ مزدوری ملتی۔ ہم سب گھر والے مل کر اسے چھیلتے۔میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے کبھی کبھار چند دانے منہ میں ڈال لیتا لیکن پھر پریشان ہوکر والدہ محترمہ سے عرْض کرتا:’’ ماں ! مونگ پھلی والے سے مُعاف کرالینا ۔‘‘چنانچہ والدہ محترمہ سیٹھ سے کہتیں کہ’’ بچے دو دانے منہ میں ڈال لیتے ہیں۔‘‘ جواباً وہ کہہ دیتا:’’کوئی بات نہیں۔‘‘یہ سن کر میں سوچتا کہ میں نے تودو دانے سے زیادہ کھائے ہیں مگر ماں نے تو صرف دو دانے مُعاف کروائے ہیں ؟ بعد میں جب شُعور آیا تو پتا چلا کہ ’’دو دانے‘‘  مُحاورہ ہے اور اس سے مُراد تھوڑے دانے ہی ہیں اور میں کبھی تھوڑے دانے کھا لیتا تھا۔‘‘

ذرا سا کاغذ پھٹنے پر معذرت:

          دورئہ حدیث (جامعۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)کے ایک طالبِ علم کی فتاویٰ رَضَویہ شریف کی ایک جلد چند دن امیرِ اَہلسنّتدامت برکاتھم العالیہ کے زیرِ مطالعہ رہی۔ آپ نے فتاویٰ رَضَویہ شریف کی جلد مع رُقعہ جب واپس فرمائی تو طالبِ علم رُقعہ


 

 

Index