تعارف امیر اہلسنت

نماز کے بعد آپ نے ان پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے عملی طور پر اشارہ کر کے بتایا کہ سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کا پیٹ زمین پراس طرح لگنا چاہئے۔

کسی کا نام بگاڑنے والے کی اصلاح:

          ایک مرتبہ کسی نے امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہکے سامنے کسی شخص کا نام برے لقب کے ساتھ لے ڈالا تو آپ نے فوری طور پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے فرمایا : ’’ایسا نہ بولیں کہ کسی مسلمان کا نام بگاڑنے والے کو قرآن ِ عظیم میں ’’فاسق ‘‘کہا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ، ’’وَلَاتَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ط بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ ج  وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ 0ترجمۂ کنزالایمان : اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو ، کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تووہی ظالم ہیں۔‘‘۲۶، سورۃ الحجرات:۱۱)

حقوق العباد کا خوف

           امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ جہاں حُقوق اللہ عزوجل کے معاملے میں حددَرجہ      محتاط ہیں وہاں حُقوق ُ العباد کے معاملے میں بھی بے حد احتیاط ملحوظ رکھتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں :’’حُقوق اللہ عزوجل  تو اگر اللہ تعالیٰ چاہے توا پنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ مگر حُقوق ُ العِباد کا معاملہ سخْت تر ہے کہ جب تک وہ بندہ جس کا حق تَلَف کیا گیاہے، مُعاف نہیں کریگا اللہ عزوجل بھی مُعاف نہیں فرمائے گا اگرچہ یہ بات اللہ عزوجل پر واجب نہیں مگر اس کی مرضی یہی ہے کہ جس کا حق تَلف کیا گیا ہے اس مظلوم سے مُعافی مانگ کر راضی کیا جائے۔‘‘


 

 

Index