تعارف امیر اہلسنت

نہیں ہونا چاہئے، لہٰذا! میں نے لوگوں کی نظر سے اوجھل رہ کر منچ کی سیڑھیوں پر بیٹھ جانے ہی میں عافیت جانی۔‘‘

فکر آخرت

                    ایک مرتبہ رات بھر مَدَنی مشورے کے باعث  امیرِاَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سو نہ سکے۔ بعد ِ فجر ایک اسلامی بھائی نے عرض کی:’’ ابھی آپ آرام فرمالیں ، 10:00 بجے دوبارہ اٹھنا ہے،لہٰذا! اٹھ کر اشراق و چاشت ادا فرمالیجئے گا۔‘‘آپ نے جواب دیا کہ’’ زندگی کا کیا بھروسا، سوکر اٹھنا نصیب ہویا نہیں۔۔ یا۔۔ کیا معلوم آج زندگی کے آخری نفل ادا ہورہے ہوں ؟‘‘ یہ فرمانے کے بعد اشراق و چا شت کے نفل ادا فرمائے پھر آرام فرمایا۔

مدنی کام کی لگن

                   ۹۹۱اء میں راہِ خدا عزوجل میں سفر کرتے ہوئے جب امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ ھند کے شہر دہلی میں پہنچے تو وہاں جامع مسجد نورُ النبی میں قیام کیا ۔طویل سفر کی تھکن کی وجہ سے اکثر شرکائے قافلہ عشاء کے بعد بہت جلد نیند کی آغوش میں پہنچ گئے لیکن آپ شدید تھکاوٹ کے باوجود آدھی رات تک وہاں پر ملاقات کی غرض سے آنے والے اسلامی بھائیوں پر انفرادی کوشش فرماتے رہے ۔

نفس کی قربانی:

           امیرِاَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ ۱۴۲۴ھ میں عیدالاضحی کے موقع پر ملک سے باہر تھے ۔بعض ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی کے بے حد اصرار پر آپ نے عیدالاضحی


 

 

Index