تعارف امیر اہلسنت

ایک ضعیف العمر بُزُرگ کے متعلق کسی نے بتایا کہ انہوں نے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کو دیکھا ہے،تو آپ اور آپ کے دونوں بیٹوں نے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی زیارت کرنے والے کی نہ صرف آنکھوں کو بوسہ دیا بلکہ قدموں کو بھی چُوم لیا۔

          ایک بار آپ دامت برکاتہم العالیہنے فرمایا کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کے اَقُوْل (یعنی فرمان) پر ہماری عُقُول (یعنی عقلیں )قربان۔اعلیٰ حضرت کااَقُوْل ہمیں قبول۔

          اسی تعلق ِ عقیدت کی بنا پرامیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ اپنے بیانات اور تالیفات میں قرآن پاک کا ترجمہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمنکے ترجمۂ کنزالایمان سے لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب ارشاد فرماتے ہیں۔

مسلمانوں کی خیر خواہی

                   سرکار ِمدینۃ المنورہ، سلطانِ مکۃ المکرمہصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان ذیشان ہے : ’’دین خیر خواہی (کا نام )ہے۔‘‘صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی ’’یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ! کس کے لیے ؟‘‘ ارشاد فرمایا،’’ اللہ کیلئے اسکی کتاب کیلئے، اس کے رسول کیلئے ، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اوران کی عوام کیلئے۔‘‘           

(مسلم کتاب الایمان ، باب بیان الدین النصیحۃ ،الحدیث ۵۵، ص۴۷)

          ہمارا حسنِ ظن ہے کہ مسلمانوں کی خیر خواہی ہمہ وقت امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہکے پیشِ نظر رہتی ہے ۔ اس ضمن میں کئی واقعات ہیں ، جس میں سے ایک پیشِ خدمت ہے ۔


 

 

Index