تعارف امیر اہلسنت

مال کی محبت سے پرہیز

          امیر اہلسنت دامت برکا تہم العا لیہ کو دیکھا گیا کہ جب کبھی ضرورتاً جیب میں رقم رکھنی پڑے تو سینے کی سیدھی جانب والی جیب میں رکھتے ہیں۔ اس کی حکمت دریافت کرنے پر فرمایا’’ میں الٹے ہاتھ والی جیب میں رقم اسلئے نہیں رکھتا کہ دنیوی دولت دل سے لگی رہے گی اوریہ مجھے گوارا نہیں ، لہٰذا میں ضرورت پڑنے پر رقم سیدھی جانب والی جیب میں ہی رکھتا ہوں۔‘‘

       ایک مرتبہ امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے اسلامی بھائیوں کو ترغیب دلانے کے لئے ارشاد فرمایا کہ الحمدﷲعزوجل !سنہری جالیوں کے روبروحاضرہو کر مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی میں نے سرکارِنامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دربار سے دنیا کی ذلیل دولت کا مطالبہ کیا ہو ، بلکہ میں نے تو یہی عرْض کیا ہے:’’یارسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ! مجھے اپنی یاد میں تڑپنے والا دل عطا کردیجئے…آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم   مجھے اپنے غم میں رونے والی آنکھ دے دیجئے…اوراس سے پہلے کہ آتش عشق سرد پڑجائے، آپ کی مَحبت میں آنسو ختْم ہوجائیں مجھے ایمان وعافیت پر مدینہ شریف میں موت نصیب ہو جائے۔‘‘

رات دن عشق میں تیرے تڑپاکروں                      یانبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم! ایسا سوزِجِگر چاہیئے

ذوق بڑھتا رہے اشک بہتے رہیں                            مضطرب قلب اور چشم ترچاہیئے

گر وہ فرمائیں عطّارؔ کیا چاہئے                                 میں کہوں گا مدینے کا غم چاہئے


 

 

Index