تعارف امیر اہلسنت

نمازِ باجماعت کی پابندی:

           ربّ عزوجل کے کرم سے شروع سے ہی امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا باجماعت نماز پڑھنے کا ذہن تھا،جماعت ترک کردینا آپ کی لُغَتْ میں تھاہی نہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ دامت برکاتہم العالیہکی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو اس وقت گھر میں دوسراکوئی مرد نہ تھا، آپ اکیلے تھے مگرالحمدللہ عزوجل ماں کی مَیِّت چھوڑ کرمسجد میں نماز پڑھانے کی سعادت پائی۔آپ دامت برکاتہم العالیہفرماتے ہیں :’’ماں کے غم میں میرے آنسوضَرور بہہ رہے تھے،مگر اس صورت میں بھی الحمدللہ عزوجل جماعت نہ چھوڑی ۔‘‘

نمازوں میں  مجھے ہرگز نہ ہو سُستی کبھی  آقا       صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

پڑھوں پانچوں نمازیں باجماعت یا رسول اللہ   صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

          امیر اہلسنت دامت برکا تہم العا لیہ ڈاکٹروں کے مشورے پر آپریشن کیلئے حیدرآباد تشریف لائے توآپ ہی کے مطالبے پر نمازِ عشاء کے بعد کا وقت طے کیا گیاتاکہ آپ کی کوئی نماز قضاء نہ ہونے پائے۔ OPERATION سے قبل دونوں ہاتھ آپریشن ٹیبل کی SIDES میں باندھ دیئے گئے تھے جو ں ہی کھولے گئے آپ نے فوراً قیامِ نَماز کی طرح باندھ لئے ۔ ابھی نیم بے ہوشی طاری تھی،درد سے کراہنے ،چلّانے کے بجائے زَبان پر ذکرودرود اور مُناجات کا سِلسلہ جاری ہوگیا۔یکایک آپ نے پوچھا،’’کیا نمازِ فجر کا وقت ہوگیا؟اگر ہوگیا ہے تو ان شاء اللہ عزوجل میں فجر کی نماز پڑھوں گا۔‘‘توآپ کو بتایا گیا کہ ’’فجر میں ابھی کافی دیر ہے ۔‘‘


 

 

Index