تعارف امیر اہلسنت

سنگِ بنیاد:

          جب شیخ ِ طریقت امیرِ اہلسنتدامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں صحرائے مدینہ

(باب المدینہ کراچی) میں فَیضانِ مد ینہ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ ’’سنگ ِبنیاد ‘‘ میں عموماً کھودے ہوئے گڑھے میں کسی شخصیت کے ہاتھو ں سے سیمنٹ کا گارا ڈلوا دیا جاتا ہے، بعض جگہ ساتھ میں اینٹ بھی رکھوالی جاتی ہے لیکن یہ سب رسمی ہوتا ہے ، بعد میں وہ سیمنٹ وغیرہ کام نہیں آتی ۔ مجھے تو یہ اِسراف نظر آتا ہے اور اگر مسجد کے نام پر کئے ہوئے چندے کی رقم سے اس طرح کا اسراف کیا جائے تو توبہ کے ساتھ ساتھ تاوان یعنی جو کچھ مالی نقصان ہوا وہ بھی ادا کرنا پڑیگا۔‘‘ عرض کی گئی،’’ایک یادگاری تختی بنوا لیتے ہیں ،آپ اس کی پردہ کشائی فرمادیجئے گا۔‘‘ توفرمایا !’’ پردہ کشائی کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے میں فرق ہے۔ پھر چونکہ ابھی میدان ہی ہے اس لئے شاید وہ تختی بھی ضائع ہوجائے گی۔ ‘‘

          بالآخرامیرِاہلسنت مدظلہ العالی نے فرمایا کہ’’ جہاں واقعی ستون بنا نا ہے اس جگہ پر ہتھوڑے مار کر کھودنے کی رسم ادا کرلی جائے اوراس کو ’’سنگِ بنیاد رکھنا‘‘ کہنے کے بجائے ’’تعمیر کا آغاز‘‘ کہا جائے۔‘‘ چنانچہ۲۲ ربیع النور شریف ۱۴۲۶ھ یکم مئی 2005ء بروز اتوار،آپ کی ساداتِ کرام سے محبت میں ڈوبی ہوئی خواہش کے مطابق 25سیِّدمَدَنی منوں نے اپنے ہاتھوں سے مخصوص جگہ پر ہتھوڑے چلائے ، آپ خودبھی اس میں شریک ہوئے اور اس نرالی شان سے


 

 

Index