تعارف امیر اہلسنت

مطبوعہ مکتوب، غیبت کی تباہ کاریاں کے صفحہ نمبر ۴۴پر اَمیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہنے اپنے حُقوق مُعاف کرنے کے ساتھ ساتھ پُر سوز انداز میں عاجزی فرماتے ہوئے مُعافی طلب کی ہے۔ اس سے آپ دامت برکاتہم العالیہ کی انکساری کا اندازہ ہوتا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں :

        ’’کاش ! مجھے بھی ہر مسلمان اپنے تمام حُقوق مُعاف کرکے مجھ پر اِحْسانِ عظیم کرے اور اجرِ عظیم کا حقدار بنے،جو بھی یہ مکتوب پڑھے یا سنے، اے کاش ! وہ دل کی گہرائی کے ساتھ کہہ دے میں نے اللہ عزوجل کیلئے اپنے اگلے پچھلے تمام حقوق محمد الیاس عطاؔر قادِری کو مُعاف کئے۔‘‘

تقویٰ وپرہیزگاری

      الحمدللہ عزوجل! اَمیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ تقویٰ وپرہیزگاری کے انوار سے بھی منوّر ہیں۔ ۱۴۲۳ ھ میں سفرِ’’ چل مدینہ‘‘ کے دوران امیرِ اہلسنتدامت برکاتہم العالیہ کو دیکھا گیاکہ گرم پانی کے کپ میں Tea bagڈال کر چائے کی پتی حل فرمائی پھردودھ اور چینی ڈالنے سے پہلے Tea bagکو اچھی طرح نچوڑ کر نکالا (جب کہ عموماً لوگ بغیر نچوڑے پھینک دیتے ہیں ) اس کے بعددودھ اور چینی ڈالی اور چائے نوش فرمائی۔آپ کی خدمت میں عرض کی گئی:’’ حضور ! اس میں کیا حکمت ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’ میں نے محسوس کیا کہ دودھ اور چینی کے کچھ اجزاء Tea bagمیں رہ جائیں گے ، اس لئے میں نے اسے احتیاطاً گرم پانی ہی میں نچوڑ لیا،تاکہ کوئی کارآمد چیز ضائع نہ ہونے پائے ۔ ‘‘

 

تجھے واسطہ سارے نبیوں کا مولاعزوجل

مجھے متقی تُو بنا یاالٰہیعزوجل


 

 

Index