تعارف امیر اہلسنت

اتفاقاً ایک چھلکا بھی آگیا جس پر ایک چیونٹی بڑی بے تابی سے پِھر رہی تھی۔ آپ فوراً معاملہ سمجھ گئے لہٰذا فرمایا کہ دیکھو یہ چیونٹی اپنے قبیلے سے بِچھڑ گئی ہے۔کیونکہ چیونٹی ہمیشہ اپنے قبیلے کے ساتھ رہتی ہے اس لئے بے تاب ہے ۔برائے مہربانی کوئی اسلامی بھائی اس چِھلکے کو چیونٹی سمیت لے جائیں اور واپس وہیں جا کر رکھ آئیں جہاں سے اُٹھایا گیا ہے، یوں وہ چِھلکا چیونٹی سمیت اپنی جگہ پہنچا دیا گیا۔

چیونٹیوں کے ہٹنے کا انتظار:

          اسی طرح ایک بار آپ دامت برکاتہم العالیہ واش بیسن پَر ہاتھ دھونے کیلئے پہنچے مگر رُک گئے، پھر ارشاد فرمایا کہ واش بیسن میں چند چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں ، اگر میں نے ہاتھ دھوئے تو یہ بہہ کر مر جائیں گی،لہٰذا کچھ دیر انتظار فرمانے کے بعد جب چیونٹیاں آگے پیچھے ہوگئیں تو پھرآپ دامت برکاتہم العالیہ نے ہاتھ دھوئے۔

شہد کی مکھی کا ڈنک:

          عرب امارات کے قیام کے دوران غالباً ۴ ربیع الغوث  ۱۴۱۸ھ کو قیام گاہ پر علی الصبح اندھیرے میں شیخ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہکا پاؤں ایک شہد کی مکھی پر پڑگیا۔ اس نے آپ کے پاؤں کے تلوے پر ڈنک مار دیا،جس پر آپ  نے بے تاب ہو کر قدم اٹھالیااور وہ شہدکی مکھی رینگنے لگی ۔ایک اسلامی بھائی اس مکھی کو مارنے کیلئے دوا کا اسپرے(Flying Insect Killer) اٹھالائے لیکن آپ نے فوراً اس کا ہاتھ روک دیا اور فرمایا،’’ اس بے چاری کا قصور نہیں ، قصور میرا ہی ہے کہ میں نے بغیر دیکھے غریب پر پاؤں رکھ دیا، اب وہ اپنی جان بچانے کے لئے ڈنک نہ


 

 

Index