تعارف امیر اہلسنت

لیکن آپ نے اس کی بے رخی کا کوئی اثر نہ لیا اور اس کے سامنے ہوکر مسکراتے ہوئے کہا’’بہت ناراض ہو بھائی؟ …‘‘ اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور گرم جوشی سے معانقہ کیا۔ اس کے دوست کا کہنا ہے کہ وہ آپ کے جانے کے بعد کہنے لگا ،’’عجیب آدمی ہے ، میرے منہ پھیر لینے کے باوجود اس نے مجھے گلے لگا لیا ، جب اس نے مجھے گلے لگایا تو یوں محسوس ہوا کہ دل کی ساری نفرت محبت میں بدل گئی ،لہٰذا! میں مرید بنوں گا تو انہی کا بنوں گا۔‘‘پھر وہ اسلامی بھائی اپنے کہنے کے مطابق آپ کے مرید بھی بنے اور داڑھی شریف بھی چہرے پر سجا لی ۔

حقوق کی معافی:

           اَمیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکے جذبہء عفوودرگزر کے قربان کہ خود آگے بڑھ کر اپنے حُقوق سب کو  مُعاف کر رہے ہیں۔ چُنانچِہ مَدَنی وصیّت نامہ ص 10 اورنَماز کے احکام ص 463 پر وصیّت نمبر۳۸  تا ۴۰ مُلا حَظہ ہوں :

وصیت( نمبر ۳۸ ) :        مجھے جو کوئی گالی دے ،بُرا بھلا کہے،زخمی کردے یا کسی طرح بھی دل آزاری کا سبب بنے میں اُسے اللہعَزَّوَجَلَّ  کے لئے پیشگی مُعا ف کرچکا ہوں۔

وصیت( نمبر ۳۹ ): مجھے ستانے والوں سے کوئی انتِقام نہ لے۔

وصیت( نمبر۴۰):   قتلِ مسلم میں تین طرح کے حقوق ہیں (۱) حَقُّ اللہ (۲) حَقِّ مقتول اور (۳) حقِّ وُرَثا۔بِالفرض کوئی مجھے شہید کردے تو حقّ اللہ معاف کرنے کا مجھے اختیار نہیں البتّہ میری طرف سے اُسے حقِّ مقتول یعنی میرے حُقُوق مُعاف ہیں۔وُرَثاء سے


 

 

Index