تعارف امیر اہلسنت

کرنے والے مدنی قافلے میں سفر اختیار کئے ہوئے تھے ۔ یہاں سے ناکام ہونے کے بعد وہ اس مسجد میں جاپہنچا جہاں آپ امامت فرماتے تھے اور آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے خلاف واویلا مچانا شروع کردیا اور مختلف قسم کی دھمکیاں دے ڈالیں۔

           جب آپ مَدَنی قافلے سے واپسی پر مسجد میں پہنچے تو آپ کو اس کے بارے میں بتایا گیا ۔ آپ نے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی انتقامی کارروائی نہ کی بلکہ اس کو منانے کی فکر میں لگ گئے ۔ چند دن بعد مسجد سے گھرکی طرف جاتے ہوئے وہی شخص اپنے گھر کے باہرکچھ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوا مل گیا ۔ آپ اسے دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھ گئے اور سلام کیا۔آپ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر شدید غصے کے آثار نمودار ہوئے لیکن آپ نے اس کے غصے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نہایت نرمی اور شفقت سے کہا،’’بھائی !آپ تو بہت ناراض دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ آپ کا پیار بھرا انداز دیکھ کر اس کا دل پسیج گیا اوراس کی ناراضگی دور ہوگئی ۔یہاں تک کہ وہ باصرار آپ کو اپنے گھر لے گیا اور ٹھنڈے مشروب سے آپ کی خاطرداری کی ۔

ناراض ہونے والے کوسینے سے لگالیا:

                   دعوت ِ اسلامی کے اوائل میں امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہکو ایک اسلامی بھائی کے بارے میں پتا چلا کہ وہ آپ کو برابھلا کہتا ہے اوراس نے آپ کی امامت میں نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی ہے ۔ایک دن وہ آپ کو اپنے دوست کے ساتھ سرِراہ مل گیا۔آپ نے اسے سلام کیا تو اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔


 

 

Index