تعارف امیر اہلسنت

شرکت کی دعوت پیش کی تھی وہ نوجوان میں ہی ہوں۔ میں آپکے عظیم حسنِ اخلاق سے بیحد متاثر ہوا اور ایک دن اجتماع میں آگیا، پھر آپ کی نظرِ کرم ہو گئی اور الحمدللہ عزوجل! میں گناہوں سے توبہ کرکے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا ۔

 عفو ودرگزر

          حضرت سیدنا عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں رحمت ِ عالم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی بارگاہ میں حاضر ہوا توحضورسرورِکونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے ارشادفرمایا: ’’جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑو،جو تمہیں محروم کرے اُسکو عطا کرو اورجو تم پر ظلم کرے تم اُسے معاف کرو۔‘‘

(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث عقبہ بن عامر ،الحدیث۱۷۴۵۷،ج۶ص۱۴۸،دارالفکر بیروت)

ناراض پڑوسی :

          امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام لینے کی بجائے اسے معاف کردیتے ہیں۔جب امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ موسیٰ لین باب المدینہ (کراچی )میں ایک فلیٹ میں رہا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ پڑوس میں رہنے والی خاتون کی آپ کے گھر والوں سے کچھ بدمزگی ہوگئی ۔ اس خاتون نے اسی وقت گھر میں موجود اپنے بچوں کے ابو (یعنی شوہر)کو سارا قصہ اپنے انداز میں جاسنایا ۔ وہ اس کی بات سن کر بھڑک اٹھا اورخطرناک تیور لئے آپ کے دروازے پر پہنچا اور آپ سے ملنے کا تقاضا کیا لیکن آپ اس وقت راہ ِ خدا عزوجل میں سفر


 

 

Index