تعارف امیر اہلسنت

خواہش کا اظہار کیا۔ ان کی اجازت پر آپ نے چند لمحوں کیلئے جاروب کشی کی سعادت حاصل کرکے مسجد نبوی کے جاروب کشوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرایا۔

 

 

جارو کشوں میں چہرے لکھے ہیں ملوک کے

وہ بھی کہاں نصیب فقط نام بھر کی ہے

(حدائق بخشش)

       کبھی کبھی میٹھے مدینے کی گلیوں سے گزرتے ہوئے وہاں کے جاروب کشوں کے ہاتھ سے جھاڑولے کر آپ نے مدینے کی گلیوں میں جاروب کشی کی سعادت بھی حاصل کی ہے۔ا س کی تمنّا کرتے ہوئے ولی کامل ، عاشقِ صادق حضور مفتی اعظم ہند مصطفی رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں۔

 

 

خداخیرسے لائے وہ دن بھی نوریؔ

مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں

(سامانِ بخشش)

جدائی کی گھڑیاں :

        جب مدینہ منّورہ سے جدائی کی گھڑیاں قریب آتی ہیں تو  امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا اضطراب بَہُت بڑھ جاتا ہے۔ آپ جدائی کے غم میں بے چین ہوجاتے ہیں۔مدینے شریف سے جدائی کا منظر کماحقہ لفظوں میں بیان کرنا بے حد مشکل ہے۔ آپ نے  ۱۴۰۰ھ کی حاضری میں رخصت کے وقت اشکبار آنکھوں سے سنہری جالیوں کے روبروعین مواجہہ شریف میں اپنی الوداعی کیفیت کا جو نقشہ اپنے اشعار میں کھینچا ہے اس کے چنداشعار ہدیۂ ِقارئین ہیں۔

 

Index