تعارف امیر اہلسنت

سخت نزلہ ہوگیا، ناک سے شدّت کے ساتھ پانی بہہ رہاتھا۔ اس کے باوُجود آپ نے کبھی بھی مدینہ پاک کی سرزمین پر ناک نہیں سنکی بلکہ آپ کی ہرادا سے ادب کا ظُہور ہوتا۔ جب تک مدینہ منّورہ میں رہے حتی الامکان گنبدِخضر اکو پِیٹھ نہ ہونے دی۔

 

 

مدینہ اس لئے عطّارؔ جان ودل سے پیاراہے

کہ رہتے ہیں مِرے آقامِرے دلبر مدینے میں  صلی اللہ تعالی علیہ سلم

 

دربارِ رسالت میں حاضری :

؎      جب مزارات اولیاء و بُزُرگان دین پرحاضری کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ قدموں کی جانب سے حاضر ہو اور سرِمبارَک کی جانب سے حاضری مناسب نہیں تو پھر تمام اولیاء کے آقا بلکہ سیدالانبیاعلیہ الصلوٰۃ و السلام کے دربار میں اس طریقے سے ہٹ کرحاضر ی دینا کسی عاشق کو کیسے گوارا ہوسکتاہے۔ چُنانچہ امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ باب جبرئیل جو کہ سرکارِدوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم   کے قدمین شریفین میں واقع ہے، وہاں سے داخل ہوتے حالانکہ آپ کو بَہُت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ مُرَوَّجہ نظام کے تَحت خصُوصاً ایّام حج میں بابُ السّلام سے داخلہ کا انتظام ہوتا ہے اور باب جبریل سے خُروج کا۔

جاروب کشی:

       ۱۴۰۶ھ کی حاضری کے دوران مسجدِ نبوی شریف میں جاروب کشی کی آرزونے بے تاب کیا چُنانچہ امیرِ اہلِسنّتدامت برکاتہم العالیہنے خادمینِ حرم شریف سے اپنی


 

 

Index