تعارف امیر اہلسنت

پیارا ہے ،اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور بستی میں نہ رہتا ۔‘‘

(جامع الترمذی ،کتاب المناقب ،باب فی فضل مکۃ ،الحدیث ۳۹،ج۵،ص۴۸۷،دارالفکر بیروت)

کعبۃ اللہ شریف کو پیٹھ نہ ہونے دی :

          امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ سفرِ حج کے دوران جب تک مکہ مکرمہ میں رہے حتی الامکان کعبۃ اللہ شریف کو پیٹھ نہ ہونے دی اور برہنہ پا رہے۔طوافِ کعبہ کے دوران بھی آپ کاعجیب والہانہ انداز ہوتا ہے۔  آپ دامت برکاتہم العالیہکو دیکھا گیا ہے کہ جسم سمیٹے، سرجھکائے اس طرح طواف ِ کعبہ میں مصروف ہوتے ہیں کہ آپ کی آنکھوں سے اشکوں کی برسات جاری رہتی ہے۔الغرض ایسا کیف آور منظر ہوتا ہے کہ دیکھنے والے بھی عاشقِ رسول کے اس رقت انگیز انداز کو دیکھ کر آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔

محبتِ مدینۂ منورہ

       حضرت ِ سیدنا انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ نبی کریم ،رو ء ف رحیم صلَّی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم جب سفر سے آتے اور مدینہ پاک کی دیواروں کودیکھتے تو اپنی سواری کو تیز فرما دیتے ، اگر کسی اور جانورپر ہوتے تومدینے (جلد پہنچنے )کی چاہت کے سبب اسے ایڑ لگاتے ۔

   (صحیح البخاری ،کتاب فضائل المدینہ ،الحدیث ۱۸۸۶،ج۱ ،ص۶۲۰دار الکتب العلمیۃ بیروت)

ناک نہ سنکی:

         ۱۴۰۶ھ کے سفرِ حج میں امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہکی طبیعت ناساز تھی۔


 

 

Index