تعارف امیر اہلسنت

جاتے ہیں۔ایسے زائرینِ مدینہ کا آپ دامت برکاتہم العالیہنے اپنے کلام میں اس طرح سے مدنی ذہن بنانے کی کوشش کی ہے :

 

 

ارے زائرِمدینہ!تو خوشی سے ہنس رہا ہے

دل غمزدہ جو پا تا تو کچھ اوربات ہوتی

       بالآخر اسی محویت کے عالم میں امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو بمشکل ایئر پورٹ کے گیٹ میں داخل کیا گیا۔ آپ دامت برکاتہم العالیہکی حالت دیکھ کر ایئر پورٹ کے عملے کے بھی کچھ لوگ آپ سے متاثر ہوچکے تھے ،لہٰذا انہوں نے وہاں کی ضَروری کارروائی کراکے آپ کو نہایت ہی احترام کے ساتھ ہوائی جہاز میں سُوارکرادیا۔

جُوتے اُتار لئے:

       جُوں جُوں منزل قریب آتی رہی ،آپ دامت برکاتہم العالیہکے عشق کی شدّت بھی بڑھتی رہی۔ اس پاک سرزمین پر پہنچتے ہی آپ نے جوتے اُتار لئے۔ اﷲ! اﷲ! مزاج ِعشقِ رسول سے اس قدر آشنا کہ خود ہی کلام میں فرماتے ہیں :

پاؤں میں جوتاارے محبوب کا کوچہ ہے یہ

ہوش کر تو ہوش کر غافل مدینہ آگیا

تعظیمِ مکۂ مکرّمہ

          حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ ،سُرورِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مکہ معظمہ سے فرمایا:’’توکیسا پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھے کیسا

 

Index