تعارف امیر اہلسنت

اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلاء کروں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروزِ قیامت اسے امن میں رکھوں گا ۔ ‘‘(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ، الحدیث۷۷۷ ،ج۱،ص۴۸۳ )

بچپن کی کیفیت:

        امیراہلِسنّتدامت برکاتہم العالیہ اپنے بچپن ہی سے خوفِ خدا عزوجل کی صفت سے متصف ہیں چنانچہ ابھی آپ دامت برکاتہم العالیہبہت چھوٹی عمر میں تھے کہ کسی بات پر ہمشیرہ نے ناراض ہو کر یہ کہہ دیا کہ تم کو اللہ عزوجل مارے گا (یعنی سزا دے گا) ۔ کم سن ہونے کے باوجودیہ سن کر آپ دامت برکاتہم العالیہ خوفِ خدا عزوجل سے سہم گئے اور ہمشیرہ سے اصرار کرنے لگے :’’بولو، اللہ عزوجل مجھے نہیں مارے گا،…بولو، اللہ عزوجل مجھے نہیں مارے گا،…بولو، اللہ  عزوجل مجھے نہیں مارے گا۔‘‘آخرِ کار ہمشیرہ سے یہ کہلوا کر ہی دم لیا ۔

رقّت آمیز فکرِ مدینہ:

          عَرَب اَمارات میں تحریری کام کے دوران جب امیر اہل سنتدامت برکاتہم العالیہ کی نگاہ سے سیدنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کی یہ تحقیق گزری کہ موت کی وجہ سے عقل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، صرف بدن اور اعضاء میں تبدیلی آتی ہے۔لہٰذا مردہ زندوں ہی کی طرح عقلمند، سمجھدار اور تکالیف و لذات کو جاننے والا ہوتا ہے، عقل باطنی شے ہے اور نظر نہیں آتی۔ انسان کا جسم اگرچہ گل سڑکر بکھر جائے پھر بھی عقل سلامت رہتی ہے۔

(احیاء علوم الدین ،کتاب ذکرالموت ومابعدہ ،ج۴،ص۴۲۰،دارالفکر بیروت)

         


 

 

Index